Tue. Apr 7th, 2020

Classicadz

Explore The World For Latest News

وہ دن بہت وحشت ناک تھے، اپنے کمرے سے بھی خوف آتا تھا—چین میں ایک پاکستانی لڑکی کی کہانی

1 min read

چین میں پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد زیر تعلیم ہے۔ حفصہ طیب بھی ان میں شامل ہیں جو کرونا وائرس پھیلنے کے سبب چین میں پھنس گئی تھیں اور وطن واپس نہیں آسکی تھیں۔

اس دوران ان پر کیا گزری اس کا احوال انہوں نے وائس آف امریکہ کو بیان کیا۔

حفصہ طيب نے بتایا کہ ہ بہت وحشت ناک دن تھے، مجھے اپنے کمرے تک سے خوف آتا تھا۔

ان کے بقول وہ ووہان يونيورسٹی آف سائنس اينڈ ٹيکنالوجی ميں ايم بی بی ايس تھرڈ ايئر کی طالبہ ہیں۔

ووہان شہر 23 جنوری سے مکمل طور پر لاک ڈاؤن ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وائرس پھیلنے سے قبل ہمارے فائنل امتحانات ہو چکے تھے اور بہت سارے طلباء نئے سال کی چھٹيوں پر جا چکے تھے۔ ميرے کچھ دوست لاک ڈاؤن سے قبل پاکستان جارہے تھے ليکن اس سے پہلے انھوں نے ايک پارٹی کا اہتمام کیا۔ شہر جا کر بہت سارے لوگوں کے ماسک پہنتے ديکھا تو
پتہ چلا کہ کوئی نيا وائرس دریافت ہوا ہے اور اسی وجہ سے شہریوں نے احتياطی تدابير اختيار کی ہوئی ہيں مگر ہم نے اس تمام واقعے کو زيادہ سنجيدہ نہيں ليا۔

انہوں نے کہا کہ اس دن بہت عرصہ بعد باہر کے حالات ديکھنے کا موقع ملا۔ بہت رش تھا کيونکہ لوگ چھٹيوں پر جا رہے تھے اور خريداری ميں مصروف تھے۔ مجھے گھر سے آئے ايک سال ہو چکا تھا اور ميری والدہ مجھے بہت یاد کر رہی تھيں لیکن ميں امتحان کی وجہ سے اپنے دوستوں کے ساتھ پاکستان نہ جا سکی۔ ميرا ارادہ جنوری کے آخر ميں آنے کا تھا۔

حفصہ طیب نے بتایا کہ ميں نے نئے سال کی چھٹيوں کی مناسبت سے کچھ سامان پہلے سے ہی خرید ليا تھا۔ لاک ڈاؤن شروع ہوا تو مجھے لگا کہ بس چند دنوں ميں ہی سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ تب جا کہ پتا چلا کہ کچھ عرصہ قبل جس وائرس والی خبر کو ہم مذاق سمجھ رہے تھے در حقيقت يہ وہی مہلک وائرس ہے جس نے پورے شہر کو اپنی لپيٹ ميں لے ليا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی خبر کے بعد ميں مارکيٹ گئی ليکن وہاں کچھ بھی موجود نہيں تھا۔ تمام چینی شہری نئے سال کی چھٹيوں پر جا چکے تھےاور مارکيٹ کے باہر نوٹس آويزاں تھا کہ آج مارکيٹ نہيں کھلے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی دوران مجھے سانس لينے ميں کچھ دشواری ہوئی۔ جس کے بعد ميں سيدھا اپنے ہاسٹل آئی۔ باہر کا موسم کافی ٹھنڈا تھا۔ ميں نے واپسی پر موجود سامان چيک کيا تو ديکھا کہ وہاں صرف چند ہی چيزيں باقی ہيں۔ آٹا ميرے پاس بہت کم مقدار ميں رہ گيا تھا۔ سبزياں بھی ناکافی تھيں۔ دل کو يہی تسلی دی کہ لاک ڈاؤن جلد ہی ختم ہو جائے گا اور سامان لے آؤں گی ليکن ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات مزيد سنگين ہوتے چلے۔ مجھے سانس کی تکليف سے وہم ہونے لگا اور ڈر کے مارے باہر جانے سے اجتناب کيا۔ اس کے بعد پتا چلا کہ کچھ ممالک نے اپنے طلباء کو ووہان سے بلوا ليا ہے ليکن ہم سے پاکستان ميں کسی نے بھی رابطہ نہيں کيا تھا۔

حفصہ کے مطابق سارے مناظر بہت تيزی سے تبديل ہونے لگے۔ اشياء خورد و نوش ميں کمی کی خبريں ہر طرف پھيلنے لگيں۔ ميں بہت ڈر گئی تھی کيونکہ کھانے پينے کی چيزيں بہت کم رہ گئيں تھيں اور باہر وائرس کی وجہ سے نہيں نکل سکتی تھی۔ پاکستان ميں والدين بہت پريشان تھے۔ ميں ان کو تسلی دینے کی کوشش کر رہی تھی ليکن ميری والدہ بہت پريشان تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران جب ميری طبعيت خراب ہوئی تو يہ بات ميں نے سب سے چھپائی۔ روزانہ کی بنيادوں پر ہلاکتوں نے مجھے مزيد پريشان کر ديا۔ ميری حالت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی۔ ٹينشن مزيد بڑھ گئی تھی۔ اسی دوران ہم چند دوستوں نے مل کر ايک ويڈيو پيغام حکومت پاکستان کے نام بھيجا تاکہ ہماری مشکلات کو سمجھنے کے بعد ہميں جلد از جلد نکالا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ميں جلد از جلد يہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔ مجھے ايسا لگ رہا تھا کہ ميں کرونا وائرس کا شکار ہو چکی ہوں۔ ميں نے اپنی کسی بھی دوست سے رابطہ نہيں کيا کيونکہ ميں کسی اور کی زندگی کو داؤ پر نہيں لگانا چاہتی تھی۔ ميری کھانسی شدت اختيار کر چکی تھی۔ میں نے گلے پر ويکس بام کا مساج کرنا شروع کيا اور اينٹی بايوٹيک بھی ليں ليکن سانس لينا پھر بھی دشوار تھا۔ دوستوں کو کال کر کے بلانا چاہا ليکن ميرے حلق سے آواز ہی نہيں نکل رہی تھی۔ تب جا کر ميں نے اپنے گھر والوں کو ويڈيو کال ملا دی۔ ميری حالت ديکھ کر ميری والدہ کی طبيعت بہت زيادہ خراب ہوئی۔

حفصہ کے مطابق ايمرجنسی ايمبولينس کال مصروف تھی۔ يونيورسٹی انتظاميہ نے فوراً يونيورسٹی اسپتال جانے کا کہا وہاں جا کر ميری حالت بہتر ہوئی۔ وہاں ميرے بہت سے ٹيسٹ ہوئے اور بلآخر يہ کنفرم ہو گيا کہ مجھ پر کرونا وائرس کا حملہ نہيں ہوا جس کی اطلاع بعد میں پاکستانی سفارت خانے نے ميرے والدين کو دی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ميں اسپتال سے واپس اپنے کمرے ميں آگئی ليکن ميری حالت پھر بھی تسلی بخش نہيں تھی۔ ڈاکٹر نے ايڈمٹ ہونے کے لیے کہا ليکن ميں اپنے ٹيسٹ کے سلسلے ميں بہت سارے پيسے خرچ کر چکی تھی اور ميرے پاس بہت کم پيسے رہ گئے تھے۔ اے ٹی ايم بھی بند تھے۔ لہذا گھر والوں نے مجھے ايمرجنسی آن لائن پيسے بھيجوائے۔ جس کے بعد میں اسپتال ميں ايڈمٹ ہو گئی اور مجھے نگہداشت ميں رکھا گيا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ڈاکٹرز کے ساتھ بات چيت ميں بہت مشکل کا سامنا تھا اور زيادہ تر ٹرانسليٹر کے ذريعے ہی بات چيت ہو رہی تھی جس کے بعد ميری يونيورسٹی کے ڈين نے ايک استاد کا بندوبست کيا جنہوں نے ميری کيفيت ڈاکٹر کو سمجھانے ميں ميری بہت مدد کی۔ اس کے علاہ ميرا انشورنس کا مسئلہ بھی حل ہو گيا جس کے بعد مجھے دوائياں دی گئيں۔ مجھے برون کائٹس ہوا تھا۔ ميرے يونيورسٹی کے ساتھی بھی ڈر گئے تھے کہ کہيں اس کے بعد مجھے کرونا نہ ہو جائے۔ ميں نے کھانے پينے کی اشيا کے حوالے سے کافی مسائل کا سامنا کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ بہت زیادہ معاشی بوجھ محسوس کرنے کے بعد ہم نے سفارتخانے کو اپنے مسائل کے بارے میں بتایا جس کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ پاکستانی حکومت ہمارے لیے کچھ رقم بھیج رہی ہے مگر ہمیں پاکستانی حکومت سے واپس اپنے ملک لے کر جانے کی امید تھی۔ آخر اب یہاں یہ حالت ہے کہ ہمارے قریب دوسری یونیورسٹی کی عمارت کو کیبن اسپتال میں تبدیل کردیا گیا ہے اور ہماری عمارت کی ہوا اسی قریبی کیبن اسپتال کی کھڑکی سے ہو کر آ رہی تھی۔ اس طرف والی کھڑکیوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا مگر مریضوں کی تعداد کافی بڑھ چکی تھی جس کی وجہ سے کیبن اسپتال بنے تھے۔

حفصہ طیب نے کہا کہ ہم بہت خوفزدہ تھے ۔ یونیورسٹی نے ہمارے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی تھی اور مرکزی دروازے کو لاک کردیا تھا۔ تین دن بعد ہی ہمیں قریبی مارکیٹ سے کھانے پینے کی ضروری اشیا خریدنے کے لیے خصوصی اجازت ملتی تھی۔ ان حالات میں باہر نکلنا خود کو خطرے میں ڈالنا تھا۔ جس کے بعد سفارت خانے کی طرف سے دو افسران نے ہماری عمارت کا دورہ کیا۔ ہم میں سے کچھ طلبا نے چین میں موجود پاکستانی طلبا کی مشکلات اور پریشانیوں سے اُنہیں آگاہ کیا اور پاکستان جانے کے لیے کہا ۔

ان کے بقول اس ملاقات سے واپس آنے کے بعد تمام طلبا ہم پر برس پڑے اور میں ٹینشن میں آگئی اور پورا دن روتی رہی۔ میں مزید دو دن تک ڈیپریشن میں رہی۔ طلبا کے خیال میں ہم نے ملاقات میں ان کی صحیح ترجمانی نہیں کی اور ہم اُن کے مسائل بہتر طریقے سے پیش نہیں کرسکے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اسی دن ہمیں یونیورسٹی کی طرف سے نوٹس میں بتایا گیا کہ ہم مارکیٹ سے سامان لانے کے لیے باہر نہیں جا سکتے اور یونیورسٹی خود ہمیں سامان مہیا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگلے چند دن میں ہمیں اطلاع ملی کہ ووہان میں سبزیوں کی قلت ہو گئی ہے اور ہمیں بمشکل یونیورسٹی کی طرف سے کچھ سبزیاں ملنے لگیں۔ ہمارے اساتذہ بھی بہت پریشان تھے مگر سب ہمت اور حوصلے سے جی رہے تھے۔ ہمیں ان تمام حالات میں یونیورسٹی سے کچھ بھی مانگنا بہت ہی بُرا لگتا تھا کیوں کہ مُشکل کی صورتحال تھی اور ہم سب وہاں ایک بوجھ بنے ہوئے تھے۔ چینی کھانا بھی ہمارے لیے استعمال کرنا مُشکل تھا۔ کچھ طلبا جو پہلے خود کھانا نہیں بناتے تھے اب شام کے کھانے کے علاوہ اپنے لیے کھانا تیار کرنے لگے اور یہ ان کے لیے کسی چیلنج سے کم نہ تھا۔

حفصہ طیب نے بتایا کہ کچھ طلبا ایسے بھی تھے جن کے پاس کھانا بنانے کے لیے اپنا سامان موجود نہیں تھا اور یہ حالات ان کے لیے مزید مُشکل کا باعث بنے۔ حالات ایسے تھے کہ اپنے لیے نئی چیزیں بھی نہیں خرید سکتے تھے مگر بعد میں دوسرے ساتھیوں کے سامان میں ہی اپنے لیے کھانا تیار کر لیتے تھے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ تمام طلبا اپنے اپنے کمروں تک ہی محدود تھے اور اجتماع مکمل طور پر بند تھا۔ اب تو ہم نے کمروں کے اندر بھی ماسک استعمال کرنا شروع کر دیے تھے۔ اسی دوران فروری کے وسط میں ہمیں معلوم ہوا کہ پاکستانی حکومت ہمیں واپس پاکستان نہیں لے جانا چاہتی ہے کیوںکہ پاکستانی عوام ہم سے ڈرے ہوئے تھے اور سب لوگوں کے لیے ہم ایک وائرس تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو اس بات کا بہت دُکھ ہوا کہ آئیسولیشن کا دورانیہ مکمل کرنے کے باوجود بھی ہمیں خطرہ سمجھا جارہا تھا۔

حفصہ طیب نے بتایا کہ ہوبی کا صوبہ مکمل لاک ڈاﺅن تھا جبکہ دوسرے صوبوں سے پاکستانیوں نے واپس جانا شروع کردیا تھا۔ ہم لوگ اب بہت تھک چکے تھے ۔ ہمیں بتایا گیا کہ تقریباً دس مارچ تک وائرس کے حملے کا وقت ہے اور ہمیں اس کے لیے مزید احتیاط کی ضرورت ہے جس نے ہمیں اور بھی پریشان کردیا-

وہاں رہنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس دوران طلبا کو ہائی ڈوز اسپرے کے بعد بدن میں الرجی ہونے لگی تھی۔ خود میرے گھر والے بہت زیادہ پریشان تھے اور پورا خاندان امی سے ہر بات چھپاتا رہا جب کہ باقی گھر والوں کو میں یہاں کے حالات سے آگاہ کرتی رہتی تھی اور وہ بہت زیادہ کوشش میں لگے رہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے ہمیں ووہان سے پاکستان واپس لایا جائے مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ خطرہ بہت زیادہ تھا اور میری امی بہت زیادہ پریشان تھیں۔ اس دوران میں اتنی زیادہ خوف میں مبتلا تھی کہ مجھے اپنے کمرے سے بھی خوف آنے لگا تھا۔ میں نے کچھ ویڈیوز میں لوگوں کو اسپتال میں چلاتے دیکھا اور بہت ساری لاشیں بھی دیکھیں۔ یہ بہت ہی عجیب اور وحشت کا ماحول تھا اور بہت سی چیزیں مجھے بہت خوفزدہ کر رہی تھیں۔ میں خوف کی وجہ سے اپنے دوست کے کمرے تک بھی نہیں جاسکتی تھی اور نہ ہی گھر والوں کو زیادہ ٹیلی فون کرتی تھی۔ میں نے کافی مرتبہ خود کو بہت ہی اکیلا محسوس کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ فروری کے آخری دنوں میں ہماری یونیورسٹی نے آن لائن کلاسسز شروع کر دیں۔ میں نے کلاسیں لینا شروع کیں اور اس کے ساتھ ساتھ خود کو مصروف بھی رکھا۔ اسی دوران حکومت پاکستان کی طرف سے ووہان کے ہر طالب علم کو 3500 چائنيز يوان فراہم کیے گئے۔ آخر ہم ناامید ہو چکے تھے کہ واپس پاکستان جانے کا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں۔ ہم اپنے کمروں کے اندر وقت گزار رہے تھے۔

حفصہ طیب کے بقول آخر میں مارچ سے اچھی خبریں آنا شروع ہوئیں کہ وائرس پھیلنا رُک گیا ہے اور انہی خبروں نے ہمارے گھر والوں کو بہت سکون دیا۔ اب بھی ووہان میں مریض موجود ہیں مگر شاید وہ آخری مریض ہیں جن کا علاج جاری ہے اور آہستہ آہستہ وہ لوگ ٹھیک ہو کر اپنے گھروں کو جا رہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ اپنے اساتذہ کا شکریہ ادا کروں گی اور اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی اور چین کی حکومت کا بھی شکریہ ادا کروں گی جنہوں نے اس مشکل وقت میں ہمارا خیال رکھا۔

انہوں نے کہا کہ دل بہت اُداس ہوتا ہے۔ ہمارے بہت سارے چینی دوستوں نے اسی سال اپنے پیاروں کو کھویا۔ ووہان شہر اتنے لمبے عرصے سے بالکل خاموش ہوگیا تھا اور آج کل ہمیں کچھ چین کے لوگ دوسرے صوبوں سے پھل اور سبزیاں بطور تحفہ بھیج رہے ہیں اور مُجھے چینیوں کی یہ سخاوت دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ یہ دُکھ بھی ہے کہ اب یہ وائرس دوسرے مُمالک سمیت پاکستان میں بھی پھیل رہا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد از جلد سب ٹھیک ہوگا اور ہم اپنے والدین سے ملیں گے اور ووہان میں پھرسے نئی صبح کا آغاز ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
en English
Copy link
Powered by Social Snap